السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جوز الصلاة دون الصف باب: جس نے صف میں شامل ہوئے بغیر اکیلے نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 5218
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ التَّاجِرُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ لِلنَّاسِ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُكُوعٌ فَلْيَرْكَعْ حِينَ يَدْخُلُ، ثُمَّ لِيَدِبَّ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، فَإِنَّ ذَلِكَ السُّنَّةُ ". قَالَ عَطَاءٌ: وَقَدْ رَأَيْتُهُ هُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر تھے اور لوگوں سے کہہ رہے تھے: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو اور لوگ رکوع میں ہوں تو وہ داخل ہوتے ہی رکوع کرے، پھر رکوع کی حالت میں آہستہ آہستہ چل کر صف میں شامل ہو جائے، یہ سنت ہے۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ان کو دیکھا تھا وہ ایسے ہی کرتے تھے۔