السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يأتم بالرجل ومعه امرأة أو امرأتان باب: ایک مرد کا ایک مرد کی اقتدا کرنے اور اس کے ساتھ ایک یا دو عورتوں کے ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا نَحْنُ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي أُمُّ حَرَامٍ فَقَالَ: " قُومُوا أُصَلِّ بِكُمْ "، فَصَلَّى بِنَا فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: فَأَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا؟ قَالَ: جَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: خُوَيْدِمُكَ، ادْعُ اللهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، فَكَانَ آخِرُ مَا دَعَا لِي أَنْ قَالَ: " اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.ثابت، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں، میری والدہ اور میری خالہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو! میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ آپ ﷺ نے نماز کے (مقررہ) وقت کے علاوہ نماز پڑھائی۔ ثابت رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا: ان کو نبی ﷺ نے کہاں کھڑا کیا؟ انہوں نے بتایا: اپنی دائیں جانب۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو گھر والوں کے لیے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی۔ میری والدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنے اس چھوٹے خادم کے لیے بھی اللہ سے دعا کر دیں۔ آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی، آپ ﷺ کی آخری دعا جو میرے لیے تھی وہ یہ تھی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس میں برکت دے۔“