السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب موقف الإمام والمأموم -- باب: الرجل يأتم برجل باب: امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: ایک مرد کا ایک مرد کی اقتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5151
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَايِنِيُّ، أنبأ وَرْقَاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ: " أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ؟ " قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْرَعْتُ. قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ". ⦗١٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَايِنِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ہم پانی کے گھاٹ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے جابر! پانی پیو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ اترے اور میں نے پانی پیا، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے تو میں نے آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھا، آپ ﷺ نے وضو کیا۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے مخالف تھے نماز پڑھی، میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔