السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في النهي عن الإمامة جالسا، وبيان ضعفه باب: بیٹھ کر امامت کروانے کی ممانعت میں مروی روایات اور ان کے ضعیف ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5076
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَدْ عَلِمَ الَّذِي احْتَجَّ بِهَذَا أَنْ لَيْسَتْ فِيهِ حُجَّةٌ، وَأَنَّهُ لَا يُثْبَتُ لِأَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَلِأَنَّهُ عَنْ رَجُلٍ يَرْغَبُ النَّاسُ عَنِ الرِّوَايَةِ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس شخص نے اس (روایت) سے دلیل پکڑی ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں کوئی دلیل نہیں اور یہ ثابت نہیں، کیونکہ یہ مرسل ہے اور اس لیے بھی کہ یہ ایک ایسے شخص سے مروی ہے جس سے روایت لینے سے لوگ گریز کرتے ہیں۔