السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب صلاة الإمام قاعدا بقيام، وقائما بقعود وغير ذلك -- باب: ما يستحب للإمام من الاستخلاف إذا لم يستطع القيام في الصلاة باب: امام کے بیٹھ کر اور مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے، یا امام کے کھڑے ہو کر اور مقتدیوں کے بیٹھ کر نماز پڑھنے اور اس کے علاوہ دیگر صورتوں کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: امام کے لیے کسی کو اپنا جانشین بنانا مستحب ہے جب وہ نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے تو گر گئے اور آپ ﷺ کی دائیں جانب زخمی ہوگئی۔ آپ ﷺ نے کوئی نماز بیٹھ کر پڑھائی تو ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“