السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن أكل ذلك غير حرام باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان چیزوں کا کھانا حرام نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: " أَكَلْتُ الثُّومَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَهُ فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا ". فَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْطَيْتَنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ، فَأَدْخَلْتُهَا فِي كُمِّي حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا، فَقَالَ: " إِنَّ لَكَ عُذْرًا، أَوْ أَرَى لَكَ عُذْرًا ".سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے دور میں لہسن کھایا، پھر میں مسجد میں آیا تو نماز کی ایک رکعت ہو چکی تھی، میں نماز میں شامل ہو گیا، نبی ﷺ نے اس کی بو محسوس کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے—یا فرمایا: ہماری نماز کے—قریب نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے۔“ میں نے نماز پوری کی، جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اپنا ہاتھ مجھے پکڑائیں گے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مجھے پکڑا دیا تو میں نے اسے اپنی قمیص کی آستین میں داخل کر کے اپنے سینے تک لے گیا، آپ ﷺ نے وہاں پٹی بندھی ہوئی پائی تو فرمایا: ”تیرا عذر ہے۔“