السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في منع من أكل ثوما أو بصلا أو كراثا من أن يأتي المسجد باب: لہسن، پیاز یا گندنا کھانے والے کو مسجد میں آنے سے روکنے کے بارے میں جو روایات آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 5056
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسَاجِدَنَا، أَوْ لِيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ "، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ قَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ: " كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ: أُتِيَ بِبَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَعْنِي طَبَقًا فِيهِ خَضِرَاتٌ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا ہماری مسجد سے الگ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ ﷺ کے پاس ہنڈیا لائی گئی، جس میں سبزیاں تھیں تو آپ ﷺ نے اس کی بو کو پایا تو آپ ﷺ کو بتایا گیا جو اس میں سبزیاں تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو اپنے ساتھیوں کے قریب کر دو“۔ جس وقت اس نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا ہے تو وہ بھی رک گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کھاؤ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتے“۔