السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في منع من أكل ثوما أو بصلا أو كراثا من أن يأتي المسجد باب: لہسن، پیاز یا گندنا کھانے والے کو مسجد میں آنے سے روکنے کے بارے میں جو روایات آئی ہیں۔
حدیث نمبر: 5052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، يَعْنِي الثُّومَ، فَلَا يُؤْذِنَا فِي مَسْجِدِنَا ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رَافِعٍ: " فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَلَا يُؤْذِنَا بِرِيحِ الثُّومِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس درخت (یعنی لہسن) سے کھائے وہ ہمیں ہماری مسجدوں میں تکلیف نہ دے۔“
(ب) سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو کی وجہ سے تکلیف نہ دے۔“