السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قام إلى الصلاة إذا أقيمت وقد أخذ حاجته من الطعام باب: اس شخص کا بیان جو اقامت کہے جانے پر نماز کے لیے کھڑا ہوا درآں حالیکہ وہ کھانے سے اپنی حاجت پوری کر چکا ہو۔
حدیث نمبر: 5044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: " كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " وَيْحَكَ، مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ، أَتَرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں اپنے باپ کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا، عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہنے لگے: ہم نے سنا ہے کہ وہ نماز سے پہلے کھانے کی ابتدا کرتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: افسوس تجھ پر! ان کا کھانا ہی کیا ہوتا تھا! کیا تو اسے اپنے باپ کے کھانے کی طرح سوچ سکتا ہے؟