السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بحضرة الطعام ونفسه إليه شديدة التوقان باب: کھانا حاضر ہونے اور اس کی شدید خواہش ہونے پر جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5041
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالْمَغْرِبِ وَقَدْ حَضَرَ الْعَشَاءُ، فَقَالَ أَنَسٌ: " ابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ ". فَتَعَشَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْنَا، وَكَانَ عَشَاؤُهُ خَفِيفًا ".حافظ ثناء اللہ
حمید بیان کرتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، مؤذن نے مغرب کی اذان کہی اور کھانا بھی آگیا تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے کھانا کھاؤ، ہم نے کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی اور ان کا شام کا کھانا تھوڑا سا ہوتا تھا۔