السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بحضرة الطعام ونفسه إليه شديدة التوقان باب: کھانا حاضر ہونے اور اس کی شدید خواہش ہونے پر جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5039
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ⦗١٠٥⦘ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ ". زَادَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ.حافظ ثناء اللہ
(الف) نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کی اقامت ہو جائے تو کھانے سے فراغت کے بعد اٹھو۔“
(ب) مسدد نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے کھانا رکھ دیا جاتا یا کھانا آ جاتا تو کھانے سے فراغت کے بعد اٹھتے، اگرچہ وہ اقامت سن رہے ہوتے یا امام کی قراءت۔