السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك الجماعة بعذر المطر وفي الليل بعذر الريح أو البرد مع الظلمة باب: بارش کے عذر کی بنا پر اور رات کے وقت آندھی یا سردی کے ساتھ اندھیرے کے عذر کی وجہ سے جماعت ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5023
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " أَصَابَنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ مَطَرٌ لَمْ تُبَلَّ أَسَافِلُ نِعَالِنَا، فَنَادَى يَعْنِي مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو ملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے مقام پر تھے کہ بارش ہو گئی اور ابھی ہمارے جوتوں کے تلوے بھی تر نہیں ہوئے تھے کہ نبی ﷺ کے مؤذن نے اعلان کر دیا: «صَلُّوۡا فِیۡ رِحَالِکُمۡ» ”تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔“