السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجماعة في مسجد قد صلي فيه إذا لم يكن فيها تفرق الكلمة باب: اس مسجد میں جماعت کروانے کا بیان جس میں نماز پڑھی جا چکی ہو بشرطیکہ اس میں انتشار کا اندیشہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5015
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ثنا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ: " صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ وَجَلَسْنَا، فَجَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فِي نَحْوٍ مِنْ عِشْرِينَ مِنْ فِتْيَانِهِ، فَقَالَ: " أَصَلَّيْتُمْ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ، فَأَمَرَ بَعْضَ فِتْيَانِهِ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان یشکری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مسجد بنو رفاعہ میں صبح کی نماز پڑھی اور ہم بیٹھ گئے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیس نوجوانوں کے ہمراہ آئے اور فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کسی نوجوان کو اذان کا حکم دیا، اس نے اذان اور اقامت کہی، پھر وہ آگے بڑھے اور ان کو نماز پڑھائی۔