السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاثنين فما فوقهما جماعة باب: دو یا دو سے زیادہ افراد جماعت ہیں۔
حدیث نمبر: 5006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: أَبُو بَصِيرٍ وَابْنُ أَبِي بَصِيرٍ سَمِعَا الْحَدِيثَ مِنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ جَمِيعًا. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيَّ يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: فِي رِوَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ دَلَالَةٌ أَنَّ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ مَحْفُوظَةٌ مَنْ قَالَ عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ لَمْ يَقُلْ، خَلَا حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ مَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَ.حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو بصیر اور ابن ابی بصیر دونوں نے یہ حدیث سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔
محمد بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خالد بن حارث اور یحییٰ بن سعید کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات محفوظ ہیں، ان کی بھی جنہوں نے ”اپنے والد سے“ کہا اور ان کی بھی جنہوں نے نہیں کہا، سوائے ابو الاحوص کی حدیث کے، میں نہیں جانتا وہ کیسی ہے۔