السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاثنين فما فوقهما جماعة باب: دو یا دو سے زیادہ افراد جماعت ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ: " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟ " قَالُوا: لَا. قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ يَعْنِي الْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، وَجَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ..سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”کیا فلاں ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا: ”کیا فلاں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو نمازیں یعنی عشا اور صبح منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کے پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو وہ ضرور آئیں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آنا پڑے۔ پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے۔ اگر تم ان کی فضیلت کو جانتے تو تم ان کی طرف جلدی کرتے۔ ایک آدمی کا دوسرے کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے اکیلے آدمی کی نماز سے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے اور جتنے زیادہ ہوں گے وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہوں گے۔“