السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في فضل المشي إلى المسجد للصلاة باب: نماز کے لیے مسجد کی طرف پیدل چل کر جانے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاتِهِ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ: اللهُمَّ ارْحَمْهُ اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں اور بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس درجے بہتر ہے اور جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز کے لیے مسجد میں آتا ہے تو اس کے ایک قدم پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک خطا مٹا دی جاتی ہے مسجد میں داخل ہونے تک۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو نماز کی حالت میں رہتا ہے جب تک نماز کے انتظار میں رہے۔ فرشتے اس بندے کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز والی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے۔ یعنی «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کو معاف فرما“ جب تک وہ کسی کو تکلیف نہ دے اور بے وضو نہ ہو۔“