السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في فضل صلاة الجماعة باب: باجماعت نماز کی فضیلت کے متعلق جو روایات آئی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ السِّمْسَارُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَتَفَقَّدَ رِجَالًا فَقَالَ: " أَشَهِدَ فُلَانٌ؟ "، قِيلَ: لَا ثُمَّ قَالَ: " أَشَهِدَ فُلَانٌ؟ " قِيلَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: " أَشَهِدَ فُلَانٌ؟ " قَالُوا: لَا قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ، مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللهِ، وَإنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ ". وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيٍّ، وَقِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَيٍّ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ.سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عشا کی نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ نے کچھ آدمیوں کو گم پایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”فلاں ہے؟“ تو کہا گیا: جی فلاں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”فلاں ہے؟“ کہا گیا: نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”فلاں ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو نمازیں یعنی عشا اور فجر منافقین پر بہت بھاری ہیں۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کے آنے میں کیا ثواب ہے تو وہ گھٹنوں کے بل بھی چل کر آئیں، اور آدمی کا دوسرے کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا یہ اکیلے سے زیادہ محبوب ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر پڑھنا یہ ایک آدمی سے بہتر ہے اور جتنے زیادہ ہوں اتنے اللہ کو محبوب ہیں اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے۔“