السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر خبر جامع لأعدادها وفي إسناده نظر باب: ان کی تعداد کے بارے میں ایک جامع روایت کا تذکرہ جس کی سند میں کلام ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، أَقْبِسْنِي خَيْرًا، فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " إِنْ صَلَّيْتَ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ لَمْ تُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا أَرْبَعًا كُتَبْتَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا سِتًّا كُتَبْتَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا ثَمَانِيًا كُتَبْتَ مِنَ الْفَائِزِينَ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا عَشْرًا لَمْ يُكْتَبْ لَكَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ذَنْبٌ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللهُ لَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ". وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْجَامِعِ.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا: اے چچا! مجھے علمی استفادے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاشت کی دو رکعات پڑھو گے تو غافلوں میں سے نہ لکھے جاؤ گے اور اگر چار رکعات ادا کرو گے تو محسنین میں سے لکھ دیے جاؤ گے اور اگر تم چھ رکعات پڑھو گے تو قیام کرنے والوں میں لکھ دیے جاؤ گے اور اگر اور آٹھ رکعات پڑھو گے تو کامیاب ہونے والوں میں لکھ دیے جاؤ گے اور اگر تم دس رکعات پڑھو گے تو اس دن تمہارا کوئی گناہ نہ لکھا جائے گا، اگر تم نے بارہ رکعات پڑھیں تو اللہ تمہارا گھر جنت میں بنا دے گا۔“