حدیث نمبر: 4836
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَتُهُ، كَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا أَسَرَّ، وَرُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: بعض اوقات نبی ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں اور کبھی رات کے آخری حصہ میں، میں نے کہا: کیا نماز میں نبی ﷺ قرأت جہری کرتے یا سری؟ فرماتی ہیں: ہر طرح کرتے، یعنی بعض اوقات سری اور کبھی جہری اور بعض اوقات آپ ﷺ غسل فرماتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4836