السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يجعل آخر صلاته وترا وأن الركعتين بعدها تركتا باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ ”اپنی آخری نماز وتر کو بنائے“ اور یہ کہ ”اس کے بعد کی دو رکعتیں ترک کر دی گئیں“۔
حدیث نمبر: 4830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ ⦗٥٠⦘ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ قَالَ: " مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً، وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا" ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَأَنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي هُوَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا اور میں نبی ﷺ اور سائل کے درمیان تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دو رکعات، جب تو صبح کے وقت سے ڈرے تو ایک رکعت نماز ادا کر اور اپنی آخری نماز وتر کو بنا۔“ پھر ایک شخص نے نبی ﷺ سے اسی جگہ ایک سال کے بعد سوال کیا، مجھے معلوم نہیں یہ وہی شخص تھا یا کوئی دوسرا۔