السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: : كم يكفي الرجل من قراءة القرآن في ليلة؟ باب: ایک رات میں آدمی کے لیے قرآن مجید کی کتنی قراءت کافی ہے؟
حدیث نمبر: 4761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَايِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ: نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَلَمْ أَجِدْ سُورَةً أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ، فَقُلْتُ: لَا يَنْبَغِي أَنْ يَقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ، قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سفیان کہتے ہیں کہ ابن شبرمہ فرماتے ہیں: میرے خیال میں قرآن کی کتنی قرأت آدمی کو کفایت کر جائے گی، کیونکہ میں تو کوئی سورت تین آیات سے کم نہیں پاتا، میں نے کہا: تو پھر تین آیات سے کم پڑھنا مناسب نہیں ہے۔
(ب) عبدالرحمن بن یزید سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ نبی ﷺ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں: ”جس نے رات کو سورہ بقرہ کی دو آیات تلاوت کر لیں تو یہ اس کو کفایت کر جائیں گی۔“