السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من نام على نية أن يقوم فلم يستيقظ باب: اس شخص کا بیان جو قیام کی نیت سے سویا لیکن بیدار نہ ہو سکا۔
حدیث نمبر: 4724
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَا: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى، وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ "..حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے بستر پر آتا ہے اور رات کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن نیند اس پر غالب آجاتی ہے یہاں تک کہ وہ صبح کرتا ہے تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند اس پر اللہ کی جانب سے صدقہ ہوتی ہے۔“