السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترتيل القراءة باب: ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4717
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ كُلَيْبٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ خَرْشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يُرَدِّدُ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ، بِهَا يَرْكَعُ وَبِهَا يَسْجُدُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} [المائدة: ١١٨] قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا زِلْتَ تُرَدِّدُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ قَالَ: " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا ".حافظ ثناء اللہ
خرشہ بن حر رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ رات نماز پڑھ رہے تھے اور ایک ہی آیت کو بار بار دہرا رہے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپ رکوع و سجود کرتے رہے اور آیت یہ ہے: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ﴾ [سورة المائدة: 118] ”اے اللہ! اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایک آیت کو بار بار دہراتے رہے اور صبح کردی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی امت کی شفاعت کا سوال کیا، یہ سفارش اس کے لیے ہوگی جس نے شرک نہیں کیا۔“