السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جهر بها إذا كان من حوله لا يتأذى بقراءته باب: اس شخص کا بیان جس نے قراءت بآوازِ بلند کی جب اس کے اردگرد موجود لوگوں کو اس کی قراءت سے تکلیف نہ پہنچتی ہو۔
حدیث نمبر: 4706
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرْحَمُ اللهُ فُلَانًا، كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ ذَكَّرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک شخص نے رات کا قیام کیا اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں آدمی پر اللہ رحم کرے کہ اس نے مجھے فلاں آیت یاد کروا دی جو میں بھول گیا تھا۔“