السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: عدد ركعات قيام النبي صلى الله عليه وسلم وصفتها باب: نبی کریم ﷺ کے قیام اللیل کی رکعات کی تعداد اور ان کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 4679
وَأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ ".حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء اور طلوعِ فجر کے درمیان گیارہ رکعات پڑھتے تھے، ہر دو رکعات میں سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے، آپ ﷺ اتنا لمبا سجدہ فرماتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیات کی تلاوت کر لے، جب مؤذن فجر کی اذان سے خاموش ہوتا تو آپ ﷺ دو ہلکی سی رکعات پڑھتے، پھر دائیں جانب لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آپ ﷺ کو نماز کی اطلاع دیتا۔