السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يقول إذا قام من الليل يتهجد باب: جب کوئی رات کو تہجد پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو کیا پڑھے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ الْعَسْكَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ الْقَصْرِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، غُفِرَ لَهُ "، أَوْ قَالَ: " فَدَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ هُوَ عَزَمَ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى، قُبِلَتْ صَلَاتُهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص رات کو بیدار ہو اور کہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے۔ اسی کے لیے تمام تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، برائی سے پھرنے اور نیک کام کرنے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں۔“ پھر کہے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔“ تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔“ یا فرمایا: ”پھر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور کھڑا ہو کر وضو کیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔“