حدیث نمبر: 4663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْسَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِعُكَاظٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ مِنْ دَعْوَةٍ أَقْرَبُ مِنْ أُخْرَى أَوْ سَاعَةٍ نَبْغِي أَوْ نَبْتَغِي ذِكْرَهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ ". وَقَدْ رُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ عکاظ میں تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ قرب کا ذریعہ بنتی ہے؟ یا کون سا وقت ہے جس میں ہم اللہ کا قرب حاصل کر سکیں یا اس کا ذکر کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصہ میں ہوتے ہیں۔ اگر تو طاقت رکھے تو ان لوگوں میں سے ہو جا جو اللہ کا ذکر اس گھڑی کرتے ہیں۔“
(ب) سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کس حصہ میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے آخری حصہ میں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 4/385»