السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجاز قضاء النوافل على الإطلاق باب: اس قول کا بیان جس نے مطلقا نوافل کی قضا کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4561
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهِمَا؟ فَقَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَجَاءَنِي مَالٌ فَشَغَلَنِي عَنْهُمَا فَصَلَّيْتُ الْآنَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ عصر کے بعد نبی ﷺ میرے پاس آئے تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دو رکعت کیسی ہیں؟ آپ تو ان کو نہیں پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ظہر کے بعد ان کو پڑھا کرتا تھا، ایک دن میرے پاس مال آیا، اس کی تقسیم کی مصروفیت کی وجہ سے میں دو رکعت نہ پڑھ سکا۔ میں نے ان کو اب پڑھ لیا ہے۔“