السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجاز قضاءهما بعد طلوع الشمس إلى أن تقام الظهر باب: اس قول کا بیان جس نے طلوعِ آفتاب کے بعد سے ظہر کھڑی ہونے تک ان کی قضا کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4559
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي تَوْبَةَ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ الْإِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يُصَلِّي مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ قَالَ: فَصَلَّى يَوْمًا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيِ الْغَدَاةِ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما دن کے ابتدائی حصے میں نماز نہیں پڑھتے تھے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، ایک دن انہوں نے نماز پڑھی اور یہ سورج کے طلوع ہونے کے بعد کی بات ہے تو فرمانے لگے: میں نے فجر کی دو رکعت نہیں پڑھی تھیں۔