السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أجاز قضاءهما بعد الفراغ من الفريضة باب: اس قول کا بیان جس نے فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان کی قضا کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4553
عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ له النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ؟ " فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا قَبْلَ الْفَجْرِ، فَسَكَتُ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا " أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ آئے اور نبی ﷺ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: میں نے فجر سے پہلے نہیں پڑھی تھیں۔ آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور کچھ نہیں فرمایا۔