حدیث نمبر: 4532
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ يَؤُمُّ قَوْمَنَا، فَخَرَجَ يَوْمًا إِلَى الصُّبْحِ، فَأَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ فَأَسْكَتَهُ عُبَادَةُ حَتَّى أَوْتَرَ، ثُمَّ صَلَّى لَهُمُ الصُّبْحَ " قَالَ مَالِكٌ: وَإِنَّمَا يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ حَتَّى يَضَعَ وِتْرَهُ بَعْدَ الْفَجْرِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، ایک دن صبح کی نماز کے لیے نکلے تو مؤذن اقامت کہنے لگا۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اسے خاموش کروا دیا، پھر وتر پڑھے، اس کے بعد انھوں نے صبح کی نماز پڑھائی۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو وتر سے سو گیا وہ فجر کے بعد وتر پڑھ لے، لیکن کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ جان بوجھ کر طلوعِ فجر کے بعد وتر پڑھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4532
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مالك 280»