السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين أن يصلي الصبح باب: اس شخص کا بیان جس نے صبح کر لی اور وتر نہ پڑھے تو وہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر ادا کر لے
حدیث نمبر: 4526
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ أَنَّ قَوْمًا، أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: " سَأَلْتُمْ عَنْهُ أَحَدًا؟ "، فَقَالُوا: سَأَلْنَا أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ: " لَا وِتْرَ بَعْدَ الْآذَانِ " فَقَالَ: " لَقَدْ أَغْرَقَ النَّزْعَ فَأَفْرَطَ فِي الْفَتْوَى كُلُّ شَيْءٍ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وِتْرٌ مَتَى أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وتر کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا تم نے کسی اور سے بھی اس کے بارے میں سوال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اذان کے بعد وتر نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے سخت تنقید کی ہے اور فتویٰ دینے میں تجاوز کیا ہے، عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان وتر کا وقت ہے، جب بھی آپ وتر پڑھ لیں اچھا ہے۔