حدیث نمبر: 4507
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: " نَامَ الْغُلَيْمُ؟ " أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا، ثُمَّ قَامَ، وَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي، عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ، أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی بیوی ہیں، ان کے گھر رات گزاری۔ رسول اللہ ﷺ نے عشا کی نماز پڑھائی اور گھر آ کر چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو پوچھا: ”بچہ سو گیا؟“ یا اس سے ملتا جلتا کلمہ کہا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔ آپ ﷺ نے پانچ رکعات ادا کیں، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ سو گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے چلے گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 117»