السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جعل قبل صلاة المغرب ركعتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مقرر کیں
حدیث نمبر: 4498
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَا يَرْكَعُونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَرْكَعُونَهَا " قَالَ: " وَكَانَ أَنَسٌ يَرْكَعُهُمَا " كَذَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّا نَرْكَعُهُمَا " وَكَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَكَأَنَّهُ أَرَادَ غَيْرَهُ أَوِ الْأَكْثَرِينَ مِنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مہاجر مغرب سے پہلے دو رکعت نہیں پڑھا کرتے تھے اور انصاری یہ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ پڑھا کرتے تھے۔
(ب) دوسری روایت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہے، فرماتے ہیں کہ ہم مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے اور وہ مہاجرین میں سے تھے اور وہ اپنے علاوہ دوسروں کو بھی مراد لے رہے تھے یا اکثر انہی میں سے تھے۔