السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جعل قبل صلاة المغرب ركعتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مقرر کیں
حدیث نمبر: 4496
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ، بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَضْرِبُ عَلَى الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ " قَالَ: " وَكُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ " فَقُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا؟ قَالَ: " قَدْ كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.حافظ ثناء اللہ
مختار بن فضل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد نماز کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر مارا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے دور میں غروبِ شمس کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا نبی ﷺ دو رکعت پڑھا کرتے تھے؟ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمیں (نماز) پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے، نہ ہمیں حکم دیتے تھے اور نہ ہی ہمیں روکتے تھے۔