السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جعل قبل صلاة المغرب ركعتين باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں مقرر کیں
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، يَعْنِي ابْنَ خُزَيْمَةَ، عَلَى أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هَذَا قَدْ أَخْطَأَ فِي الْإِسْنَادِ؛ لِأَنَّ كَهْمَسَ بْنَ الْحَسَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ، وَعَبْدَ الْمُؤْمِنِ الْعَتَكِيَّ رَوَوَا الْخَبَرَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ لَا عَنْ أَبِيهِ، هَذَا عِلْمِي مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي كَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: أَخَذَ طَرِيقَ الْمَجَرَّةِ، فَهَذَا الشَّيْخُ لَمَّا رَأَى أَخْبَارَ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ تَوَهَّمَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ هُوَ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ، وَلَعَلَّهُ لَمَّا رَأَى الْعَامَّةَ لَا تُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ تَوَهَّمَ أَنَّهُ لَا يُصَلَّى قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَزَادَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ فِي الْخَبَرِ، وَزَادَ عِلْمًا بِأَنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ خَطَأٌ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ كَهْمَسٍ: فَكَأَنَّ ابْنَ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، فَلَوْ كَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الِاسْتِثْنَاءَ الَّذِي زَادَ حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ فِي الْخَبَرِ مَا خَلَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَمْ يَكُنْ يُخَالِفُ خَبَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.ابوبکر محمد بن اسحاق یعنی ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بعد فرمایا: اس حیان بن عبیداللہ نے سند میں غلطی کی ہے، کیونکہ کھمس بن حسن، سعید بن ایاس جریری اور عبدالمومن عتکی نے یہ روایت ابن بریدہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، نہ کہ ان کے والد سے۔ میرے علم میں یہ اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: اس نے کہکشاں کا راستہ پکڑ لیا (یعنی عام معروف راستہ)۔ جب اس شیخ نے ابن بریدہ کی اپنے والد سے روایات دیکھیں تو انہیں وہم ہوا کہ یہ روایت بھی ان کے والد سے ہے، اور شاید جب انہوں نے عام لوگوں کو دیکھا کہ وہ مغرب سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تو انہیں وہم ہوا کہ مغرب سے پہلے نماز نہیں پڑھی جاتی، چنانچہ انہوں نے یہ کلمہ روایت میں بڑھا دیا۔ اور اس روایت کے غلط ہونے کی مزید دلیل یہ ہے کہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے کھمس سے اپنی روایت میں کہا: ابن بریدہ رحمہ اللہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ اگر ابن بریدہ رحمہ اللہ نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی ﷺ سے یہ استثنا سنا ہوتا جو حیان بن عبیداللہ نے روایت میں بڑھایا ہے، یعنی ”سوائے مغرب کی نماز کے“، تو وہ کبھی بھی نبی ﷺ کی حدیث کی مخالفت نہ کرتے۔