السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جعل قبل الظهر أربعا، وبعدها أربعا باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد چار رکعتیں مقرر کیں
حدیث نمبر: 4482
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي الْفَوَائِدِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: لَمَّا حُضِرَ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ اشْتَدَّ جَزَعُهُ، فَقِيلَ: مَا هَذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ، يَعْنِي ⦗٦٦٥⦘ أُخْتَهُ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ، فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا "..حافظ ثناء اللہ
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان رحمہ اللہ پر موت کا وقت آگیا تو انہوں نے بہت چیخ و پکار کی، ان سے کہا گیا: یہ چیخ و پکار کیوں ہے؟ تو وہ کہنے لگے: میں نے اپنی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ظہر سے پہلے اور بعد میں چار رکعات ادا کیں تو اس کا گوشت جہنم پر حرام کر دیا جاتا ہے،“ میں نے یہ بات سننے کے بعد ان رکعات کو ترک نہیں کیا۔