السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأيام دون بعض، فيجوز لمن حضر الجمعة أن يتنفل إلى أن يخرج الإمام باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض دنوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، چنانچہ جمعہ میں حاضر ہونے والے کے لیے امام کے نکلنے تک نفل پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4435
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ثنا سَيَّارٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ غَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: " يَوْمُ الْجُمُعَةِ صَلَاةٌ كُلُّهُ، إِنَّ جَهَنَّمَ لَا تُسَجَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " وَرُوِّينَا الرُّخْصَةَ فِي ذَلِكَ، عَنْ طَاوُسٍ وَمَكْحُولٍ.حافظ ثناء اللہ
بشر بن غالب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جمعہ کے دن کسی وقت بھی نماز پڑھنا منع نہیں، کیونکہ جہنم جمعہ کے دن نہیں بھڑکائی جاتی۔