السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
وَأنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: " رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِنَافِعٍ، فَقَالَ نَافِعٌ: " كَذَبَ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ ".عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے طواف کرتے دیکھا، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کا تذکرہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو نافع رحمہ اللہ فرمانے لگے: مکہ والوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق غلطی لگ گئی ہے۔
نافع رحمہ اللہ کی یہ تکذیب مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے۔ جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مکہ والوں سے روایت ہے، اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرتے تکذیب نہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما عصر اور صبح کے بعد نمازِ جنازہ پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح طواف کی دو رکعات بھی، لیکن طلوعِ شمس اور غروب کے وقت ان کے نزدیک نماز ممنوع ہے اور اہل مکہ جو ان سے روایت کرتے ہیں، ممکن ہے وہ ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہو۔ («وَاللّٰهُ أَعْلَمُ»)