السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
حدیث نمبر: 4409
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، فِي جِنَازَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ يَقُولُ: " إِنْ لَمْ تُصَلُّوا عَلَيْهِ حَتَّى تُطْفِلَ الشَّمْسُ فَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِ حَتَّى تَغِيبَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو بکر بن حفص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے جنازے میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم سورج کے غروب کی طرف مائل ہونے سے پہلے ان کی نماز جنازہ نہ پڑھ سکو تو پھر سورج غروب ہونے تک ان کی نماز جنازہ نہ پڑھو۔“