السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الصلوات دون بعض، وأنه يجوز في هذه الساعات كل صلاة لها سبب باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض نمازوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ، اور ان اوقات میں ہر وہ نماز پڑھنا جائز ہے جس کا کوئی سبب ہو
حدیث نمبر: 4398
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً سَنَةَ أَرْبَعِ مِائَةٍ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهَا إِلَّا صَلَّاهُمَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ جب بھی میرے گھر آئے آپ ﷺ نے یہ دو رکعت ترک نہیں کیں۔