السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: النهي عن الصلاة في هاتين الساعتين، وحين تقوم الظهيرة حتى تميل باب: ان دونوں اوقات میں اور دوپہر کے وقت جب سورج سر پر ہو یہاں تک کہ وہ ڈھل جائے، نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4382
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ نُقْبِرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيفُ الشَّمْسُ إِلَى الْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے: ”جب سورج طلوع ہو کر چمک رہا ہو یہاں تک کہ وہ اونچا ہو جائے، اور جس وقت دوپہر ہو جائے یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جب سورج ڈوبنے کے لیے ڈھلنے لگے یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔“