السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الرخصة في ذلك في الأبنية باب: عمارتوں کے اندر ایسا کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلًا الْقِبْلَةِ، ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: " بَلَى، إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ، فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ " ⦗١٥٠⦘.حافظ ثناء اللہ
مروان اصفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے اپنی سواری قبلہ کی طرف بٹھائی، پھر بیٹھ کر پیشاب کیا۔ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! کھلی جگہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن جب تیرے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز ہو جو تجھ کو ڈھانپ دے (یعنی کوئی پردہ ہوجائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔