السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب الساعات التي تكره فيها صلاة التطوع -- باب: النهي عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب الشمس باب: ان اوقات سے متعلق ابواب کا جامع بیان جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے -- باب: فجر کے بعد سورج نکلنے تک، اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ اتْرُكْهُمَا، فَقَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا أَنْ تُتَّخَذَ سُلَّمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّهُ قَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا نَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهِمَا أَمْ تُؤْجَرُ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ {مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ}.ہشام بن حجیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ان کو چھوڑ دو۔ تو طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ”ان سے صرف اس لیے منع کیا تھا کہ انہیں سیڑھی نہ بنا لیا جائے۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ”عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا۔“ میں نہیں جانتا اس پر تجھے اجر ملے یا عذاب؛ کیونکہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 36] کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کے لیے مناسب نہیں جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، پھر ان کے لیے اپنے معاملہ میں اختیار ہو۔