حدیث نمبر: 4377
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ اتْرُكْهُمَا، فَقَالَ: إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا أَنْ تُتَّخَذَ سُلَّمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّهُ قَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا نَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهِمَا أَمْ تُؤْجَرُ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ {مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ}.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن حجیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو اور فرمایا: نبی ﷺ نے ”ان پر ہمیشگی کرنے سے منع کیا۔“
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا۔“ میں نہیں جانتا اس پر تجھے اجر ملے یا عذاب؛ کیونکہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 36] کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کے لیے مناسب نہیں جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں، پھر ان کے لیے اپنے معاملہ میں اختیار ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4377
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الدارمي 434»