❮
❯
حدیث نمبر: 4365
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: " فَلَمَّا خَرَجَ مِنْهَا. . " مَكَانَ: " لَمَّا بَرَزَ. . " وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُحِلٍّ الْعَامِرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ " فَمَرَّ بِنَا عَلَى الْخَسْفِ الَّذِي بِبَابِلَ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَجَازَهُ " وَعَنْ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا كُنْتُ لِأُصَلِّيَ فِي أَرْضٍ خَسَفَ اللهُ بِهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " وَهَذَا النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا، إِنْ ثَبَتَ مَرْفُوعًا، لَيْسَ لِمَعْنًى يَرْجِعُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَوْ صَلَّى فِيهَا لَمْ يُعِدْ، وَإِنَّمَا هُوَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن ابی محل عامری فرماتے ہیں کہ ہم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ہمارا گزر بابل کی دھنسائی گئی زمین کے پاس سے ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔
(ب) حجر حضرمی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں اس جگہ نماز نہیں پڑھتا جس کو اللہ نے تین بار دھنسا دیا ہو۔
اس جگہ نماز کی یہ ممانعت اگر مرفوعاً ثابت ہو تو یہ کسی ایسی وجہ سے نہیں جس کا تعلق نماز سے ہو، لہٰذا اگر کوئی وہاں نماز پڑھ لے تو اسے دہرائے گا نہیں، بلکہ واللہ اعلم یہ اس وجہ سے ہے جو اگلی روایت میں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4365
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم»