السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ذكر المعنى في كراهية الصلاة في أحد هذين الموضعين دون الآخر باب: ان دونوں جگہوں میں سے ایک جگہ نماز مکروہ ہونے اور دوسری میں نہ ہونے کی وجہ کے بیان کا ذکر
حدیث نمبر: 4363
وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَخْبَرَنِي الْمَنْيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّ الْمَنِيعِيَّ قَالَ: إِلَى بَعِيرِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَهَذَا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صَلَاةً فِي مَوْضِعِ الْإِبِلِ فَهِيَ صَلَاةٌ قُرْبَ الْإِبِلِ، ثُمَّ كَانَتْ جَائِزَةً لِطَهَارَةِ الْمَكَانِ، كَمَا كَرِهَ الصَّلَاةَ قُرْبَ الشَّيْطَانِ فِي خَبَرٍ آخَرَ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَخَنَقَهُ وَلَمْ يُفْسِدْ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اگرچہ یہ نماز اونٹوں کے باڑے میں نہیں، لیکن اونٹ کے قریب ہے تو پھر اونٹوں والی جگہ پاک ہوئی، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں شیطان کے قریب نماز پڑھنے کو ناپسند کیا گیا ہے، لیکن جب شیطان حالتِ نماز میں آپ ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ نے اس کی گردن دبائی تو آپ ﷺ کی نماز باطل نہیں ہوئی۔