حدیث نمبر: 4358
وَأنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْقَاسِمِ السَّرَّاجُ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ كُرَيْزٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ، وَأَنْتُمْ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا فِيهَا، فَإِنَّهَا سَكِينَةٌ وَبَرَكَةٌ، وَإِذَا أَدْرَكَتْكُمُ الصَّلَاةُ وَأَنْتُمْ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَاخْرُجُوا مِنْهَا فَصَلُّوا فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا نَفَرَتْ كَيْفَ تَشْمَخُ بِأَنْفِهَا؟ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؛ فَإِنَّهَا جِنٌّ مِنْ جِنٍّ خُلِقَتْ " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا، كَمَا قَالَ حِينَ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ: " اخْرُجُوا بِنَا مِنْ هَذَا الْوَادِي؛ فَإِنَّهُ وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ " فَكَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ شَيْطَانٍ، وَكَذَا كَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ قُرْبَ الْإِبِلِ؛ لِأَنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ جِنٍّ لَا لِنَجَاسَةِ مَوْضِعِهَا، وَقَالَ فِي الْغَنَمِ: " هِيَ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا الْحَدِيثُ فِي النَّوْمِ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَدْ مَضَى، وَأَمَّا حَدِيثُهُ فِي الْغَنَمِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم بکریوں کے باڑے میں ہو اور نماز کا وقت ہو جائے تو اس میں نماز پڑھ لو، کیونکہ اس میں سکونت اور برکت ہے اور اگر نماز کا وقت ہو جائے اور تم اونٹوں کے باڑے میں ہو تو وہاں سے نکل جاؤ، کسی اور جگہ نماز پڑھو، یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب وہ بدکتا ہے تو کیسے ناک چڑھاتا ہے۔“
(ب) سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ آپ ﷺ نے اس سے منع کیا جیسے آپ ﷺ ایک وادی میں نماز سے سو گئے تو فرمایا: ”تم اس وادی سے نکلو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔“ آپ ﷺ نے شیطان کے قریب نماز کو ناپسند کیا، ایسے ہی اونٹ کے پاس کیونکہ یہ بھی جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4358
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم»