السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المشرك يدخل المسجد غير المسجد الحرام باب: مشرک کا مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں داخل ہونے کا بیان
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ ⦗٦٢٣⦘ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَبْتُكَ " فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَرُوِيَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ وَسَمَّى الرَّجُلَ ضَمَّامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَقَالَ عَنِ اللَّيْثِ: " فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ".انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اونٹ پر ایک شخص داخل ہوا، اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر اس کا گھٹنا باندھ دیا اور کہنے لگا: تم میں سے محمد ﷺ کون ہے؟ اور نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یہ ہیں سفید ٹیک لگائے ہوئے۔ وہ کہنے لگا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی، میں آپ کی بات سنتا ہوں۔“ اس نے کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس شخص کا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ لیث کہتے ہیں: اس نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے کے قریب بٹھایا اور اس کا گھٹنا باندھا، پھر مسجد میں داخل ہوا۔