السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: في تنظيف المساجد وتطييبها بالخلوق وغيره باب: مساجد کو صاف کرنے اور انہیں خلوق (خوشبو) وغیرہ سے معطر کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 4310
أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: مَا كَانَ بَدْءُ هَذَا الزَّعْفَرَانِ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " غَيْرُ هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا " فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ فَجَاءَ بِزَعْفَرَانٍ فَحَكَّهَا، ثُمَّ طَلَى بِالزَّعْفَرَانِ مَكَانَهَا، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: " هَذَا أَحْسَنُ مِنَ الْأَوَّلِ " قَالَ: وَصَنْعَهُ النَّاسُ وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا قَدْ مَضَى فِي بَابِ الْبُزَاقِ.حافظ ثناء اللہ
ابووَلید نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ مسجد میں زعفران خوشبو کی ابتدا کیسے ہوئی؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ مسجد میں آئے تو قبلہ کی جانب مسجد میں بلغم دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ کوئی اچھی چیز ہونی چاہیے“، ایک آدمی نے یہ بات سنی تو وہ زعفران لے کر آیا، اس نے اسے کھرچ دیا اور وہاں پر زعفران مل دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہلی سے زیادہ اچھی ہے“، پھر لوگوں نے ایسا ہی کیا۔