السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بسط شيئا فصلى عليه باب: اس شخص کا بیان جس نے کوئی چیز بچھائی اور اس پر نماز پڑھی
حدیث نمبر: 4285
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، ثنا عَامِرُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى دَرْنُوكٍ قَدْ طَبَّقَ الْبَيْتَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي عَلَى هَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَسْجُدُ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم کو قالین پر نماز پڑھائی، وہ گھروں میں عام ہوتا تھا اور وہ اس پر رکوع و سجود کر رہے تھے۔ میں نے سوال کیا: ”کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں؟“ فرمانے لگے: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے وہ اس پر نماز پڑھا کرتے تھے۔“